Coke Studio Season 14 Phir Milenge Faisal Kapadia x Young Stunners
[00:21.60] کونے میں ہی
[00:21.87] یاد تیری
[00:22.14] میں نے چھُپا رکھی ہے
[00:22.43] چھُپا رکھی ہے
[00:23.75] بھُولا نہیں، تُو بھی مجھے
[00:24.01] بات یونہی
[00:24.27] میں نے بنا رکھی ہے
[00:24.27] بنا رکھی ہے
[00:24.53] سمایا تھا دل میں وہ ایسے
[00:24.53] انجانے دو ملتے پھر کیسے؟
[00:24.83] تم بارش میں بھیگے، ہم بہتے
[00:25.09] سمندر کنارے جو رہتے
[00:25.09] اُمیدیں لگا کے وہ بیٹھے
[00:25.36] جو اپنوں کے غم وہ بھی سہتے
[00:25.62] یہ دنیا تو چاہتی کے بہکیں
[00:25.62] یہ باغ اسی خوشبو سے مہکیں
[00:25.89] ملے درد بہت، کبھی تُو بھی مل
[00:26.95] دل میں رہتی نہیں، جانم تُو ہی دل
[00:27.22] آج پھر آئی نہ تُو، انتظار رہا مستقل
[00:27.22] طویل ہے غم کی شام، کہانی محبت کی مختصر
[00:27.51] نظرثانی کرو زرا سی، قدر کرو میری کلا کی
[00:27.51] جانے والے چلے جاتے ہیں، قسمتیں ہی تو قابو میں نہیں آتی
[00:27.80] چھاؤں میں دھوپ کی طرح، جسم میں روح کی طرح
[00:28.06] گزرے دماغ سے یاد تیری، لگاتار لہو کی طرح
[00:28.06] اب کھائے جائیں یہ در و دیوار مجھے کسی بھُوک کی طرح
[00:28.32] تیرے بنا نہیں گھر بھی گھر اکیلے محسوس یہ کیا
[00:28.59] تیری کمی پوری ہوئی نہ آج بھی رہی ایک دل میں خَلا
[00:28.59] خِزَاں بھی آئی بر وقت اور دل کا باغ بھی رہا نہ ہرا
[00:28.87] تیرا ہی اعتبار باقی ساری دنیا پے بھروسہ نہیں بنا
[00:29.14] تُو مجھ میں دیکھے انسان، باقی ساری دنیا کو دکھے بس کلا
[00:29.14] تُو ہے، میں ہوں، اور گہری خاموشی
[00:29.40] ہم دونوں ہی نہیں سنتے جو کچھ بھی یہ کہتی ہوگی
[00:29.40] گلی ہے دل کی تنگ اب تیرا اُس میں آنا نہ ہو
[00:30.49] دل کے محلے میں اب تیرے میرا جانا نہ ہو
[00:30.76] تُو ہے، میں ہوں، اور صرف فاصلے ہیں
[00:31.01] رابطے منقطع اور منتظر ہم آپ کے ہیں
[00:31.01] راز ہی نہیں رازدار بھی کیا مانگتے؟
[00:31.28] ہم خامیوں پے پردے لوگ کم ہی یہاں ڈالتے ہیں
[00:31.55] ہم سرہانے رکھ کے خواب راتیں جاگتے ہیں
[00:31.55] ہم تمہیں تم سے بہت بہتر جانتے ہیں
[00:31.80] سرگوشی میں لوں نام تیرا
[00:32.09] تیرے لیے
[00:32.09] میں نے حیا رکھی ہے
[00:32.34] حیا رکھی ہے
[00:32.62] بھولا نہیں میں بھی تجھے
[00:32.62] میرے لیے
[00:32.86] میں نے، سزا رکھی ہے
[00:33.13] سزا رکھی ہے
[00:33.13] زندگی پے لکھ چکے ہیں فلسفے
[00:33.40] اتنی دل لگی کے خود کو ہی نا پڑھ سکے
[00:33.67] بے قدر تو در بدر یوں بے خبر ہی چل پڑے
[00:33.67] یادیں کھینچتی ہیں، آگے ہی نہ بھڑھ سکے
[00:33.94] سادگی بن چکی ہے اب عاجزی
[00:35.00] منتظر کھڑے اسی مقام پے ہم آج بھی
[00:35.29] آج پھر تُو آئی نہیں
[00:35.53] آج پھر تُو شاعری
[00:35.53] آج پھر تُو ایک گمان
[00:35.82] یاد تیری کھائے گی
[00:36.06] وہ تھی میری رضا، اب دعا بن گئی
[00:36.06] اے میرے خدا کیا سزا بڑھ گئی ہے
[00:36.36] میں جاگوں ساری رات، وہ صبح بن گئی
[00:36.64] گرج کے برستے اب یہ بادل نہیں
[00:36.64] تُو میرے ہر درد کی دوا
[00:36.89] میں دھوپ میں کھرا محسوس کر ذرا
[00:37.15] موسم بدلتے وے دیکھیں ہیں لوگوں کے بدلتے روپ کی طرح
[00:37.15] شامل ہیں اب تیرے دیوانوں میں، ملیں گےخوابوں میں
[00:37.40] رہتے خیالوں میں، الجھے سوالوں میں
[00:37.68] کیا تم پہچانو گے یا پھر مہمانوں سے کیسے بھروسہ کریں اب انسانوں پے؟
[00:37.68] تُو ہی خواب، تُو ہی میری خواہش
[00:37.97] تُو ہی احساس، میں بیابان تُو بارش
[00:38.21] ملیں گے پھر کبھی امید بھی تُو آس بھی
[00:38.21] کھُلی کتاب کرتے زخمون کی نمائش (نمائش، نمائش)
[00:38.49] کہانی کہاں ختم ہوتی ہے؟
[00:38.75] پوری نہیں، ہر قسم ہوتی ہے
[00:38.75] پھر ملیں گے کبھی، اجنبی کی طرح
[00:41.14] اِس آس نے دل میں صبح رکھی ہے
[00:41.14] صبح رکھی ہے
[00:41.40] صبح رکھی ہے
